بنگلورو،5؍جنوری (سالار نیوز) اس ملک میں جمہوریت اور آئین کو جو خطرہ لاحق ہے اس کے متعلق عوام کو باخبر کرنے کیلئے آزاد اور غیر جانبدار ذرائع ابلاغ کی ضرورت ہے لیکن بدقسمتی سے اس ملک میں ایسے میڈیا کی کمی ہے- اس کمی کو پر کرنے کی ایک کوشش کے طور پر سالار نے اپنا انگلش آن لائن اخبار منظر عام پر لایا ہے- یہ بات سابق مرکزی وزیر اور سالار پبلی کیشنز ٹرسٹ کے چیر مین ڈاکٹر کے رحمن خان نے کہی-
سالار آڈیٹوریم میں سالار کی بے باک صحافت میں ایک نئے اضافے سالار انگلش کے آن لائن ایڈیشن اور نئے ویب سائٹ کا اجراء کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 57سال سے روزنامہ سالار اردو صحافت کی اعلیٰ قدروں کی علمبرداری کرتے ہوئے غیرجانبدارنہ صحافت کیلئے عوام میں مقبولیت حاصل کی ہے -اس دائرے کو اور زیادہ وسعت دیتے ہوئے اب سالار کے انگریزی ایڈیشن کو آن لائن شکل میں عوام کیلئے پیش کیا جا رہا ہے-انہوں نے کہا کہ اس انگریزی آن لائن ایڈیشن کو منظر عام پر لانے کا ایک اور اہم مقصد یہ بھی ہے کہ ملک کی انگریزی اور دیگر زبانوں کی صحافت نے عوام کی امنگوں کے مطابق کام کرنا چھوڑ دیا ہے اور برسر اقتدار طبقہ کی پسند اور ناپسند کو اس نے اپنا نصب العین بنا لیا ہے-
انہوں نے ملک کے موجودہ حالات اورجمہوریت اور آئین کو لاحق خطروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ برسر اقتدار طبقے کی طرف سے آج جوکچھ کیا جا رہا ہے اس کی پیشین گوئی 1930میں بابا صاحب امبیڈکر نے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں ہی کردی تھی-اس وقت امبیڈکر نے کہا تھا کہ حکومت ہندو اکثریت کی ہو گی اور اقتدار پر اگر کٹر ہندوؤں کا قبضہ ہو جاتا ہے تو اس صورت میں وہ اکثریت کا سہارا لے کر آئین اور قانون میں مداخلت کریں گے، دلتوں، اقلیتوں، پسماندہ طبقات اور سماج کے دیگر کمزور طبقات پر ظلم کریں گے،آئین کے ساتھ کھلواڑکریں گے،ایسے قوانین لائیں گے جن سے دلتوں، اقلیتوں، پسماندہ طبقات اور سماج کے دیگر کمزور طبقات کے مفادات کو نقصان پہنچایا جائے گا-عدلیہ میں مداخلت کی جائے گی- یہ تمام پیشین گوئیاں آج سچ ہو رہی ہیں -
انہوں نے کہا کہ اس ملک میں اقتدار پر قابض اکثریتی طبقہ اقلیتوں، کمزورطبقات، دلتوں اور مظلوموں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کر رہا ہے - جمہوری اور آئینی اقدار کو کمزور کیا جا رہا ہے اورعوام دشمن قوانین لائے جا رہے ہیں - یہاں تک کہ ملک کا کسان ایک مہینے سے احتجاج کر رہا ہے لیکن اس کی سننے والا نہیں - ایسے قوانین لائے جا رہے ہیں جن سے اقلیتوں، دلتوں اور کمزور طبقات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے-حکومت کی ان تمام کوتاہیوں کے باوجود میڈیا گونگا بنا ہوا ہے - اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت سے مراعات کی امیدرکھنے والے کارپوریٹ طبقے نے میڈیاپر قبضہ جمائے رکھا ہے اور اس کی وجہ سے میڈیا کی آواز دبا دی گئی ہے- سوشیل میڈیا کے ذریعہ کچھ حلقوں سے آزاد میڈیا کی آوازیں ضرور اٹھ رہی ہیں لیکن ان کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے-
اسی مقصد کو لے کر سالار نے انگریزی میڈیا کے میدان میں قدم رکھا ہے تاکہ عوام کے مسائل اوران کی امنگوں کی ترجمانی کر سکے- آن لائن اخبار اور ویب سائٹ کے علاوہ سالار اپنے یو ٹیوب چینل کے ذریعے اس ملک کے عوام بالخصوص اقلیتوں، سماج کے کمزور، محروم اورمظلوم طبقات کے احساسات کی ترجمانی کرسکے -انہوں نے کہا کہ صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے لیکن افسوس کہ جمہوریت اور آئین کو ڈھا دینے پر تلی ہوئی حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے میڈیا نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے-ملک کے موجودہ حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر رحمن خان نے کہا کہ آج ملک ایک سنگین بحران سے گزررہا ہے ایک طرف معاشی صورتحال بدترین ہے تو دوسری طرف سماج میں بدامنی پھیلی ہوئی ہے - جمہوریت اور عوامی مفادات کو خطرہ لاحق ہے - ان حالات میں ایک ایسے بے باک میڈیا کی اشد ضرورت ہے جو ان کے خلاف جرأت مندی سے کھڑا ہو سکے-آنے والے دنوں میں سالار کا مقصد یہی ہو گا کہ اس ملک کی جمہوریت اور آئین کی بقا کیلئے کام کرنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی میدان میں عوام کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کے خلاف آواز اٹھاتا رہے- اس طبقہ سے سوال کیا جائے گا جو مظلوموں کا استحصال کر رہا ہے -
انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ سیاستدانوں نے اپنے مفاد کیلئے اس ملک میں کثرت میں وحدت کے جذبے کو نقصان پہنچاتے ہوئے سماج کو مذہب کے نام پر تقسیم کردیا ہے -سماج اگرمتحد نہ رہ سکا تو یہ ملک کی جمہوریت اور سلامتی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے - عوام کو برسر اقتدار طبقے کی ان چالوں سے باخبر کرنے کی اشد ضرورت ہے- اس موقع پر سالار پبلی کیشنز ٹرسٹ کے ٹرسٹیان یونس محمد،حیات اللہ خان، مقصود علی خان، سنٹرفار ریسرچ اینڈ کمیونی کیشنز کے سکریٹری منصور علی خان نے اپنی نیک تمنائیں پیش کیں - اس اجلاس کا آغاز مولانا محمد اشرف علی رشادی کی قرأت سے ہوا- تقریب میں سالار انگلش کی چیف ایڈیٹر اسماء نصیر، روزنامہ سالار کے ایڈیٹر اسجد نواز، جنرل منیجر سید عثمان،کے علاوہ انگریزی و اردو سالار کے عملہ کے اراکین اورزوم کانفرنس پر ملک اور بیرون ممالک سے بڑی تعداد میں لوگ جڑے ہوئے تھے- اس موقع پر ڈاکٹر کے رحمن خان نے سالار کی انگریزی ویب سائٹ کا بھی اجراء کیا-